UAE میں بچوں میں ذیابیطس کی اسکریننگ پر زور، امریکی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
دبئی: متحدہ عرب امارات میں طبی ماہرین نے بچوں اور نوجوانوں میں ذیابیطس کی بروقت تشخیص کے لیے ابتدائی اسکریننگ پر زور دیا ہے۔ یہ مطالبہ ایک نئی امریکی تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے جس میں نوجوانوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تقریباً دس گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق ذیابیطس کو اب صرف بڑی عمر کے افراد کی بیماری سمجھنا درست نہیں، کیونکہ خاص طور پر زیادہ وزن، کم جسمانی سرگرمی اور خاندانی تاریخ جیسے عوامل رکھنے والے بچوں اور نوعمروں میں بھی اس بیماری کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
امریکی تحقیق میں کیا انکشاف ہوا؟
امریکی ریاست کولوراڈو میں ہونے والی طویل مدتی تحقیق میں 2002 سے 2023 تک نوجوانوں میں ذیابیطس کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق 10 سے 19 سال کی عمر کے نوجوانوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی شرح 2002 میں 2.37 فی ایک لاکھ تھی، جو 2023 میں بڑھ کر 22.30 فی ایک لاکھ ہوگئی۔
یعنی دو دہائیوں کے دوران ٹائپ 2 ذیابیطس کے نئے کیسز میں تقریباً 10 گنا اضافہ دیکھا گیا۔ تحقیق میں ٹائپ 1 ذیابیطس کے مقابلے میں ٹائپ 2 کے کیسز میں کہیں زیادہ تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تحقیق کولوراڈو ڈائبیٹیز رجسٹری کے اعداد و شمار پر مبنی ہے اور اس میں صحت کے مختلف نظاموں سے تشخیصی کوڈز، لیبارٹری نتائج اور ادویات سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا گیا۔
UAE کے ڈاکٹر بچوں کی جلد اسکریننگ کیوں چاہتے ہیں؟
UAE کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماری کی ابتدائی شناخت سے ایسے بچوں کی بروقت مدد ممکن ہوسکتی ہے جو مستقبل میں ذیابیطس کے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔
دبئی کے ماہرین کے مطابق زیادہ وزن یا موٹاپے کے ساتھ دیگر خطرے کے عوامل رکھنے والے بچوں میں پری ڈائبیٹیز اور ذیابیطس کی اسکریننگ پر غور کیا جانا چاہیے۔ خبر میں امریکی ذیابیطس ایسوسی ایشن کی سفارش کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے مطابق زیادہ وزن اور دیگر خطرے کے عوامل رکھنے والے بچوں میں اسکریننگ 10 سال کی عمر یا بلوغت کے بعد شروع کی جاسکتی ہے۔
بچوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟
ماہرین کے مطابق نوجوانوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیچھے ایک ہی وجہ نہیں بلکہ کئی عوامل شامل ہوسکتے ہیں۔
ان میں:
بچوں میں بڑھتا ہوا موٹاپا
جسمانی سرگرمی میں کمی
زیادہ دیر تک اسکرین استعمال کرنا
میٹھی اور شوگر والی مشروبات کا زیادہ استعمال
انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال
غیر متوازن خوراک
ناکافی نیند
خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ
جینیاتی عوامل
شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوغت کے دوران جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت قدرتی طور پر بڑھ سکتی ہے، جس سے پہلے سے خطرے کا شکار نوجوانوں میں ذیابیطس کا مسئلہ جلد سامنے آسکتا ہے۔
UAE میں صورتحال کیوں اہم ہے؟
UAE میں ذیابیطس پہلے ہی ایک اہم عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ خبر کے مطابق 2024 کے انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کے اعداد و شمار کی بنیاد پر اندازہ ہے کہ ملک کی تقریباً 20 فیصد آبادی ذیابیطس کا شکار ہے، جو تقریباً 12 لاکھ افراد بنتے ہیں۔
اسی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں میں میٹابولک صحت پر توجہ دینا ضروری ہے، خصوصاً ایسے بچوں کے لیے جن کا وزن زیادہ ہو یا جن کے خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ موجود ہو۔
نوجوانوں میں ذیابیطس زیادہ خطرناک کیوں ہوسکتی ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق کم عمری میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص تشویش کا باعث ہے کیونکہ متاثرہ فرد کو بیماری کے ساتھ زندگی کا زیادہ طویل عرصہ گزارنا پڑ سکتا ہے۔
اگر خون میں شوگر مسلسل زیادہ رہے اور بیماری مناسب طریقے سے کنٹرول نہ ہو تو وقت کے ساتھ گردوں، آنکھوں، اعصاب اور دل سمیت جسم کے مختلف حصے متاثر ہوسکتے ہیں۔ نوجوانوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس بعض صورتوں میں بالغ افراد کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پیچیدگیوں کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
اسی لیے ماہرین کا مؤقف ہے کہ بیماری کی علامات ظاہر ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے خطرے کا شکار بچوں کی بروقت جانچ زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہے۔
کن بچوں پر خصوصی توجہ ضروری ہے؟
ماہرین کے مطابق ہر بچے کے لیے یکساں طور پر ذیابیطس کی اسکریننگ ضروری نہیں ہوتی۔ تاہم ایسے بچوں میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا زیادہ اہم ہوسکتا ہے جن میں:
موٹاپا یا زیادہ وزن موجود ہو، خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ ہو، جسمانی سرگرمی بہت کم ہو یا دیگر طبی خطرے کے عوامل موجود ہوں۔
بچوں کے والدین کو اپنے طور پر تشخیص یا علاج شروع کرنے کے بجائے بچوں کے ڈاکٹر یا اینڈوکرائن اسپیشلسٹ سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ذیابیطس کی جانچ کیسے کی جاتی ہے؟
خبر میں ماہرین کے مطابق ذیابیطس یا خون میں شوگر کی غیر معمولی سطح جانچنے کے لیے مختلف ٹیسٹ استعمال کیے جاسکتے ہیں، جن میں فاسٹنگ بلڈ گلوکوز، HbA1c اور اورل گلوکوز ٹالرنس ٹیسٹ شامل ہیں۔ ڈاکٹر بچے کی عمر، علامات، وزن، خاندانی تاریخ اور دیگر خطرے کے عوامل کو دیکھ کر مناسب ٹیسٹ کا فیصلہ کرسکتا ہے۔
والدین بچوں کی صحت کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے کے لیے بچوں کی روزمرہ زندگی میں صحت مند عادات کو فروغ دینا اہم ہے۔
والدین بچوں کو متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور بہتر نیند کی عادت اپنانے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ میٹھے مشروبات اور ضرورت سے زیادہ پراسیس شدہ غذاؤں کے استعمال کو محدود کرنا بھی مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر بچے میں ذیابیطس کے خطرے کے عوامل موجود ہوں تو ڈاکٹر سے بروقت مشورہ کیا جائے۔
ایک اہم وضاحت
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ امریکی تحقیق میں سامنے آنے والا تقریباً 10 گنا اضافہ امریکہ، بالخصوص کولوراڈو کے نوجوانوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز سے متعلق ہے۔ اس اعداد و شمار کو براہ راست UAE کے بچوں پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔
UAE کے ماہرین نے بھی واضح کیا ہے کہ مختلف ممالک کی آبادی، جینیاتی عوامل، صحت کے نظام اور طرز زندگی مختلف ہوتے ہیں۔ تاہم موٹاپا، کم جسمانی سرگرمی، خوراک اور خاندانی تاریخ جیسے خطرے کے عوامل خطے میں بھی موجود ہیں، اس لیے بچوں کی میٹابولک صحت پر توجہ دینا اہم ہے۔
نتیجہ
امریکی تحقیق میں نوجوانوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے تقریباً دس گنا اضافے نے دنیا بھر میں ماہرین کی توجہ ایک اہم مسئلے کی جانب مبذول کرائی ہے۔ UAE کے ڈاکٹروں کی جانب سے ابتدائی اسکریننگ پر زور بھی اسی تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص، صحت مند طرز زندگی اور خطرے کے شکار بچوں کی مناسب طبی نگرانی مستقبل میں ذیابیطس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے۔ کسی بچے میں ذیابیطس کی اسکریننگ یا علاج کے بارے میں فیصلہ متعلقہ ڈاکٹر سے مشورے کے بعد کیا جانا چاہیے۔
