Thursday, 27 August 2026

95 فیصد پاکستانی بے روزگاری کے خوف میں مبتلا، اپسوس سروے میں تشویشناک انکشاف

 

اپسوس سروے کے مطابق 95 فیصد پاکستانی بے روزگاری کے خوف میں مبتلا، مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور محدود بچت سے متعلق عوامی معاشی خدشات کی عکاسی کرتی ہوئی نیوز تصویر۔

95 فیصد پاکستانی بے روزگاری کے خوف میں مبتلا، معاشی حالات پر عوام کی تشویش بڑھ گئی

پاکستان میں معاشی صورتحال کے حوالے سے عوام کی تشویش ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ ایک تازہ اپسوس پاکستان سروے کے مطابق ملک کے 95 فیصد پاکستانی بے روزگاری کے خدشے میں مبتلا ہیں، جبکہ صرف 5 فیصد افراد کو یقین ہے کہ ان کا روزگار محفوظ ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک میں ملازمتوں، مہنگائی، گھریلو اخراجات اور مستقبل کی مالی ضروریات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتے ہیں۔

95 فیصد پاکستانیوں کو بے روزگاری کا خوف

سروے کے مطابق 95 فیصد پاکستانیوں نے موجودہ ملکی حالات کے باعث بے روزگاری کے خدشے کا اظہار کیا، جبکہ صرف 5 فیصد افراد اپنے روزگار کے حوالے سے پُراعتماد نظر آئے۔

یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملازمت کا تحفظ پاکستانی عوام کے لیے ایک اہم معاشی مسئلہ بن چکا ہے۔ روزگار کے بارے میں غیر یقینی صرف بے روزگار افراد تک محدود نہیں بلکہ ملازمت کرنے والے شہری بھی مستقبل کے حوالے سے فکرمند دکھائی دیتے ہیں۔

63 فیصد افراد نے ملازمت ختم ہونے کا تجربہ بتایا

سروے میں ایک اور اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ 63 فیصد شہریوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران یا تو ان کی اپنی، خاندان کے کسی فرد کی یا کسی جاننے والے کی ملازمت ختم ہوئی۔

ملازمتوں کے خاتمے کا یہ رجحان عوام کے معاشی اعتماد پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ جب کسی فرد کے اردگرد موجود لوگوں کو روزگار کے مسائل کا سامنا ہو تو مستقبل میں اپنی ملازمت کے بارے میں خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

روزمرہ اشیا کی خریداری بھی مشکل

سروے کے مطابق 99 فیصد پاکستانیوں نے روزمرہ استعمال کی اشیا کی خریداری میں مشکلات کا اظہار کیا۔

یہ اعداد و شمار گھریلو بجٹ پر موجود دباؤ کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا، بجلی، گیس، پٹرول، تعلیم اور دیگر ضروری اخراجات میں اضافہ ہونے کی صورت میں محدود آمدنی رکھنے والے خاندانوں کے لیے ماہانہ اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

گھر یا گاڑی خریدنے کا اعتماد بھی انتہائی کم

رپورٹ کے مطابق 99 فیصد پاکستانیوں نے گھر یا گاڑی جیسی بڑی خریداری کرنے کے حوالے سے بھی اعتماد نہ ہونے کا اظہار کیا۔

بڑی خریداری عموماً خاندان کے مالی استحکام، آمدنی اور مستقبل کے اعتماد سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر شہری مستقبل کی آمدنی کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوں تو وہ گھر، گاڑی یا دیگر بڑے اثاثوں کی خریداری مؤخر کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

96 فیصد پاکستانی بچت اور سرمایہ کاری کے لیے پریشان

سروے کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی ہے کہ 96 فیصد پاکستانیوں نے مستقبل کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بچت اور سرمایہ کاری کی مناسب سکت نہ ہونے کا اظہار کیا۔

بچت نہ ہونے کا مسئلہ کسی بھی خاندان کے لیے اہم ہے، کیونکہ اچانک طبی اخراجات، ملازمت ختم ہونے، کاروباری نقصان یا دیگر ہنگامی حالات میں مالی تحفظ محدود ہو جاتا ہے۔

یہ رجحان اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ بڑی تعداد میں خاندان اپنی موجودہ آمدنی کا زیادہ حصہ روزمرہ ضروریات پوری کرنے پر خرچ کر رہے ہیں، جس کے باعث مستقبل کے لیے رقم الگ رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔

پاکستان کی معاشی صورتحال اور عوامی اعتماد

اپسوس کے گزشتہ کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس میں بھی پاکستان میں معاشی خدشات، مہنگائی اور بے روزگاری کو اہم مسائل قرار دیا گیا تھا۔ جون 2026 کی رپورٹ میں صرف 17 فیصد پاکستانیوں نے اپنی ملازمت کے تحفظ پر اعتماد ظاہر کیا تھا، جبکہ گھریلو خریداری کے حوالے سے بھی اعتماد بہت کم ریکارڈ کیا گیا۔

اپسوس کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں ملازمت کے تحفظ پر اعتماد میں کچھ بہتری دیکھی گئی تھی، تاہم معاشی صورتحال اور مہنگائی اب بھی عوام کی بڑی تشویشوں میں شامل رہے۔

روزگار کے مواقع بڑھانا اہم چیلنج

موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ایک اہم معاشی ضرورت بن چکا ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد ہر سال روزگار کی منڈی میں شامل ہوتی ہے، اس لیے معیشت میں نئی ملازمتیں پیدا کرنا، سرمایہ کاری بڑھانا اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2024-25 کے دوران بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد رہی، جبکہ لیبر فورس میں شرکت کی شرح 46.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

عوام کے لیے معاشی استحکام کیوں ضروری ہے؟

روزگار کا تحفظ صرف ماہانہ تنخواہ تک محدود معاملہ نہیں۔ مستقل آمدنی کا تعلق خاندان کی تعلیم، صحت، رہائش، بچت، سرمایہ کاری اور مجموعی معیارِ زندگی سے ہوتا ہے۔

اگر شہریوں کو اپنی ملازمت یا آمدنی کے مستقبل پر اعتماد نہ ہو تو وہ اخراجات کم کرنے، بڑی خریداری مؤخر کرنے اور سرمایہ کاری سے گریز کرنے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مجموعی معاشی سرگرمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

سروے نے ایک اہم معاشی تصویر سامنے رکھ دی

تازہ اپسوس سروے کے اعداد و شمار پاکستان میں عوامی معاشی اعتماد کے حوالے سے ایک تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ 95 فیصد افراد کا بے روزگاری سے خوف، 63 فیصد کا ملازمت ختم ہونے کا تجربہ، 99 فیصد کی روزمرہ خریداری میں مشکل اور 96 فیصد کی بچت و سرمایہ کاری کے حوالے سے کمزور مالی استعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عام شہری کے لیے معاشی استحکام اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

تاہم سروے کے اعداد و شمار کو عوامی رائے اور معاشی احساسات کے پیمانے کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ بے روزگاری کی سرکاری شرح کے متبادل کے طور پر۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024-25 میں پاکستان کی بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تھی۔

معاشی حالات میں بہتری کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ، مہنگائی پر قابو، سرمایہ کاری کا فروغ اور عوام کی آمدنی میں پائیدار اضافہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں معاشی پالیسیوں اور روزگار کی صورتحال یہ طے کرے گی کہ عوام کا اعتماد کس حد تک بحال ہوتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Your Ad Spot

مزید خبریں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔