Thursday, 27 August 2026

نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب، 168 ہلاک، 1300 سے زائد افراد لاپتا

 

نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب، 168 افراد ہلاک اور 1300 سے زائد افراد لاپتا، متاثرہ پہاڑی علاقے میں شدید سیلاب اور تباہی کا منظر۔

نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب، 168 افراد ہلاک، 1300 سے زائد لاپتا

نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں آنے والے انتہائی تباہ کن اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ شدید سیلابی ریلے اور مٹی و پتھروں کے تودوں نے کئی آبادیوں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ابتدائی طور پر حکام نے کم از کم 168 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی، جبکہ 1,300 سے زائد افراد لاپتا بتائے گئے۔ ریسکیو اداروں کے مطابق لاپتا افراد میں مقامی شہریوں کے علاوہ غیر ملکی سیاح اور مذہبی زائرین بھی شامل ہیں۔

سیلاب کیسے آیا؟

حکام اور ماہرین کے مطابق یہ تباہی ایک بڑے برفانی تودے اور گلیشیئر کے اچانک ٹوٹنے کے نتیجے میں شروع ہوئی۔ برف، چٹانوں، مٹی اور پانی کے ایک بڑے ریلے نے دریائی راستوں میں انتہائی تیزی سے سفر کیا اور راستے میں آنے والی آبادیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

ابتدائی طور پر اس واقعے کو زلزلے سے جوڑا گیا تھا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کی بعد کی تشخیص کے مطابق ریکارڈ کیا گیا زمینی ارتعاش دراصل گلیشیئر اور چٹانوں کے اچانک انہدام سے پیدا ہونے والی توانائی سے متعلق تھا، نہ کہ روایتی زلزلے سے۔

کئی علاقے ملبے میں تبدیل

نیپال کے متاثرہ علاقوں میں گھروں، گاڑیوں، پلوں اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کئی مقامات پر موٹی کیچڑ اور ملبہ جمع ہوگیا، جبکہ بعض علاقوں میں لوگوں کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔

ریسکیو کارروائیوں میں نیپالی فوج اور دیگر امدادی ادارے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں تک خوراک، خیمے اور طبی سامان پہنچانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

غیر ملکی سیاح اور زائرین بھی لاپتا

اس قدرتی آفت میں متعدد غیر ملکی شہری بھی لاپتا ہیں۔ حکام کے مطابق لاپتا افراد میں بھارت، امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں۔

متاثرہ خطہ ماؤنٹ کیلاش اور جھیل مانسرور جانے والے زائرین اور ہمالیائی سیاحوں کے لیے اہم راستہ بھی سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں سیاح اور مذہبی زائرین اس علاقے میں موجود تھے۔

تبت میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان

چین کے زیر انتظام تبت کے علاقے میں بھی سیلاب اور مٹی کے تودوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ چینی حکام کے مطابق تبت میں بھی سینکڑوں افراد لاپتا ہیں، جبکہ سڑکوں اور سرحدی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک پہنچنے اور لاپتا افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم دشوار گزار پہاڑی راستے اور خراب مواصلاتی نظام امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

مزید سیلاب کا خدشہ

چینی حکام نے بعض علاقوں میں ایک رکاوٹ بننے والی جھیل کے باعث مزید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ریسکیو ٹیموں کے لیے کام مزید مشکل ہوگیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی بھی ایک اہم عنصر

ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطے میں گلیشیئرز کے پگھلنے اور برفانی نظام میں تبدیلیوں کے باعث ایسے خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت گلیشیئرز اور پہاڑی ڈھلوانوں کو غیر مستحکم کر سکتا ہے، جس سے اچانک سیلاب اور برفانی تودوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ریسکیو آپریشن جاری

نیپال اور چین میں امدادی ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں مزید لاشیں ملنے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

یہ سانحہ ہمالیائی خطے میں قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرے کی ایک سنگین مثال ہے۔ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں جبکہ امدادی ادارے مشکل حالات کے باوجود زیادہ سے زیادہ افراد کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نوٹ: قدرتی آفت کے بعد ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Your Ad Spot

مزید خبریں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔