9/11 حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کا ٹرائل جون 2028 میں ہوگا
واشنگٹن: امریکا میں 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کے خلاف طویل عرصے سے زیرِ سماعت مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایک فوجی جج نے فیصلہ دیا ہے کہ خالد شیخ محمد اور ان کے تین شریک ملزمان کا ٹرائل جون 2028 میں شروع کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 9/11 حملوں کو تقریباً 25 سال مکمل ہونے والے ہیں۔ خالد شیخ محمد کو امریکی حکام نے 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا تھا اور وہ کئی برس سے گوانتاناموبے میں امریکی حراست میں ہیں۔
ٹرائل کی تاریخ کیا مقرر کی گئی ہے؟
فوجی جج لیفٹیننٹ کرنل مائیکل شراما نے بدھ، 26 اگست 2026 کو مقدمے کی سماعت کے لیے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کی۔ استغاثہ کی جانب سے کوشش کی گئی تھی کہ مقدمے کا ٹرائل جنوری 2027 میں شروع کیا جائے، تاہم جج نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے زیادہ وقت دینے کا فیصلہ کیا۔
یہ مقدمہ گوانتاناموبے میں قائم فوجی کمیشن کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
خالد شیخ محمد کون ہے؟
خالد شیخ محمد کو امریکی حکام 11 ستمبر 2001 کے حملوں کا مبینہ مرکزی منصوبہ ساز قرار دیتے رہے ہیں۔ وہ خود بھی ماضی میں ان حملوں کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں، اسی وجہ سے انہیں اکثر 9/11 حملوں کا "ماسٹر مائنڈ" کہا جاتا ہے۔
تاہم قانونی طور پر یہ بات اہم ہے کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا اور عدالت میں الزامات ثابت ہونا باقی ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق خالد شیخ محمد سمیت چار ملزمان پر سازش، شہریوں پر حملہ، شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا، قتل، املاک کی تباہی، طیارہ ہائی جیک کرنے اور دہشت گردی سمیت متعدد الزامات عائد ہیں۔
9/11 حملوں سے کیا تعلق ہے؟
11 ستمبر 2001 کو امریکا میں چار مسافر طیارے ہائی جیک کیے گئے تھے۔ ان میں سے دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرائے، جبکہ ایک طیارہ واشنگٹن کے قریب پینٹاگون سے ٹکرایا۔
چوتھا طیارہ پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوگیا۔
ان حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور اس واقعے نے عالمی سیاست، امریکی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی سمت ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
مقدمہ تقریباً دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کیوں چل رہا ہے؟
خالد شیخ محمد کے خلاف مقدمہ کئی قانونی پیچیدگیوں کے باعث غیر معمولی طور پر طویل ہوگیا ہے۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ وہ شواہد ہیں جو امریکی خفیہ حراستی نظام میں ملزمان سے تفتیش کے دوران حاصل کیے گئے تھے۔
ملزمان کی گرفتاری کے بعد ان کے ساتھ ہونے والے سلوک اور تفتیش کے طریقوں سے متعلق قانونی سوالات نے مقدمے کی کارروائی کو بار بار متاثر کیا۔ وکلائے دفاع نے ایسے شواہد کی قابلِ قبولیت پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔
اسی وجہ سے مقدمے کی تیاری میں کئی سال لگ گئے اور مختلف قانونی درخواستوں اور عدالتی فیصلوں کے باعث ٹرائل کی تاریخ بارہا آگے بڑھتی رہی۔
گوانتاناموبے میں طویل حراست
خالد شیخ محمد کو 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں امریکی زیرِ انتظام گوانتاناموبے منتقل کیا گیا، جہاں وہ طویل عرصے سے زیرِ حراست ہیں۔ ABC News کے مطابق وہ 2003 سے امریکی حراست میں ہیں جبکہ گوانتاناموبے منتقل کیے جانے کے بعد سے یہ مقدمہ مسلسل قانونی مراحل سے گزر رہا ہے۔
یہ حقیقت اس کیس کو امریکی تاریخ کے سب سے طویل عرصے تک چلنے والے دہشت گردی کے مقدمات میں شامل کرتی ہے۔
مقدمے میں چار ملزمان شامل ہیں
خالد شیخ محمد کے ساتھ تین دیگر ملزمان بھی اس مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق یہ مقدمہ مشترکہ طور پر درج ہے اور چاروں افراد پر 9/11 حملوں میں مبینہ کردار کے حوالے سے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
چاروں ملزمان نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے قصوروار نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
پہلے معاہدے کی کوشش بھی ناکام ہوچکی ہے
اس مقدمے میں ایک موقع پر استغاثہ اور دفاع کے درمیان ایک ممکنہ plea deal بھی سامنے آئی تھی۔ اس معاہدے کے تحت ملزمان کو سزائے موت کے خطرے سے بچانے کے بدلے جرم قبول کرنے اور عمر قید کی سزا کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز زیرِ بحث آئی تھی۔
تاہم متاثرین کے بعض خاندانوں کی شدید مخالفت اور بعد کی قانونی کارروائیوں کے باعث یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اس کے بعد بھی مقدمہ قانونی تنازعات میں گھرا رہا۔
متاثرین کے خاندانوں کے لیے اہم مرحلہ
9/11 حملوں میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے لیے یہ مقدمہ کئی دہائیوں سے انصاف کے انتظار کی علامت بن چکا ہے۔
بہت سے خاندان چاہتے ہیں کہ حملوں کے مبینہ منصوبہ سازوں کے خلاف عدالت میں مکمل کارروائی ہو، شواہد پیش کیے جائیں اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ دوسری جانب دفاعی وکلاء مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ مقدمے میں قانونی تقاضوں اور ملزمان کے حقوق کو مکمل طور پر ملحوظ رکھا جائے۔
جون 2028 کیوں اہم ہے؟
5 جون 2028 کی مقرر کردہ تاریخ اس مقدمے میں ایک اہم سنگِ میل ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس تاریخ سے حتمی فیصلہ بھی فوری طور پر سامنے آجائے۔ مقدمے سے قبل اب بھی مختلف قانونی درخواستیں اور دیگر عدالتی معاملات زیرِ غور آ سکتے ہیں۔
امریکی فوج کے آفیشل ریکارڈ کے مطابق 9/11 مقدمے کی کارروائی گوانتاناموبے میں قائم فوجی کمیشن کے ذریعے جاری ہے اور کیس کا شیڈول قانونی پیش رفت کے باعث تبدیل بھی ہوسکتا ہے۔
تقریباً 25 سال بعد انصاف کی طرف ایک اور قدم
11 ستمبر 2001 کے حملوں نے نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا تھا۔ اس کے بعد افغانستان میں جنگ، عالمی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں، ایئرپورٹ سیکیورٹی میں بڑی تبدیلیاں اور بین الاقوامی سلامتی کی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔
اب تقریباً 25 سال بعد خالد شیخ محمد کے مقدمے کی باقاعدہ ٹرائل تاریخ مقرر ہونا اس طویل قانونی داستان میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
تاہم جون 2028 تک ابھی تقریباً دو سال باقی ہیں اور اس دوران کیس میں مزید قانونی موڑ آ سکتے ہیں۔ اس لیے حتمی نتیجے کے بارے میں کوئی فیصلہ کن بات ٹرائل اور عدالتی فیصلے سے پہلے کہنا قبل از وقت ہوگا۔
خلاصہ
خالد شیخ محمد کے خلاف 9/11 حملوں سے متعلق مقدمے کا ٹرائل 5 جون 2028 کو گوانتاناموبے میں شروع کرنے کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ فوجی جج نے استغاثہ کی جانب سے جنوری 2027 میں ٹرائل شروع کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ مقدمہ طویل عرصے سے قانونی تنازعات، حراستی تفتیش سے متعلق سوالات اور شواہد کی قابلِ قبولیت جیسے مسائل کا سامنا کرتا رہا ہے۔
اب دنیا کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ آیا 2028 میں واقعی اس مقدمے کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہو پاتا ہے اور کیا تقریباً تین دہائیوں کے قریب پہنچنے والا یہ قانونی عمل متاثرین کے خاندانوں کو مطلوبہ انصاف تک پہنچا سکے گا۔
نوٹ: یہ ایک جاری قانونی معاملہ ہے، اس لیے مستقبل میں عدالتی فیصلوں یا اپیلوں کے نتیجے میں ٹرائل کی تاریخ اور کارروائی میں تبدیلی ممکن ہے۔
