مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں یا نہیں؟ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایرانی سپریم لیڈر کی صحت پر پھر سوالات
واشنگٹن: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ان کے خیال میں مجتبیٰ خامنہ ای ہلاک نہیں ہوئے بلکہ انہیں انتہائی شدید چوٹیں آئی ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی رہنما کی طویل عرصے سے عوامی سطح پر عدم موجودگی نے ان کی صحت سے متعلق مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔
ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں کیا کہا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریڈیو میزبان گلین بیک کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کو انتہائی شدید نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔
ٹرمپ نے خاص طور پر جسم کے بائیں حصے، بازو اور ٹانگ کے شدید زخمی ہونے کا ذکر کیا، تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے ساتھ کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور ان کی عملی طور پر حکومتی معاملات میں شرکت کے بارے میں سوالات مسلسل موجود ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی پراسرار عدم موجودگی
مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں سب سے زیادہ توجہ ان کی طویل عرصے سے عوامی منظرنامے سے دوری پر مرکوز ہے۔ ان کے بارے میں یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ وہ کس حالت میں ہیں اور آیا وہ ایران کے اہم حکومتی فیصلوں میں براہِ راست کردار ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔
ان کی عدم موجودگی کے باعث سوشل میڈیا اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر متعدد دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض رپورٹس میں ان کی شدید زخمی ہونے کی بات کی گئی، جبکہ کچھ دعووں میں اس سے بھی زیادہ سنگین صورتحال کا ذکر کیا گیا۔ تاہم ان دعوؤں میں سے کئی کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران کی جانب سے کیا صورتحال سامنے آئی؟
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودگی اور ان کے حکومتی کردار سے متعلق بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق 9 اگست کو مجتبیٰ خامنہ ای کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی اطلاع بھی دی گئی تھی، جس میں اقتصادی، فوجی اور دفاعی معاملات پر گفتگو کا بتایا گیا۔
یہ پیش رفت اس لیے اہم سمجھی گئی کیونکہ اس سے پہلے ان کی عوامی سرگرمیوں کے بارے میں طویل عرصے تک بہت کم معلومات سامنے آ رہی تھیں۔
ٹرمپ کے دعوے نے قیاس آرائیوں کو پھر ہوا دے دی
ٹرمپ کے تازہ بیان نے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق پہلے سے جاری بحث کو ایک مرتبہ پھر تیز کر دیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی سپریم لیڈر واقعی ہلاک ہو چکے ہوتے تو ایرانی حکام کی جانب سے ان کے ساتھ مشاورت کا تاثر برقرار رکھنا ایک غیر معمولی صورتحال ہوتی۔
تاہم ٹرمپ کے بیان کو حتمی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ ان کے دعوے کی آزاد ذرائع سے مکمل طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسی لیے مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودہ جسمانی حالت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔
ایران، امریکا کشیدگی کے تناظر میں معاملہ کیوں اہم ہے؟
مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کا معاملہ صرف ایک فرد کی صحت تک محدود نہیں بلکہ ایران کی سیاسی اور عسکری صورتحال سے بھی جڑا ہوا ہے۔ سپریم لیڈر ایران کے سیاسی نظام میں انتہائی اہم منصب رکھتے ہیں، اس لیے ان کی موجودگی یا عدم موجودگی کے براہِ راست اثرات ملکی پالیسی اور بیرونی تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔
خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران قیادت کے حوالے سے کسی بھی غیر یقینی صورتحال کو عالمی سطح پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز بھی بحث کا اہم حصہ
ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل چکی ہے اور بڑی تعداد میں تیل کی ترسیل اس اہم بحری راستے سے ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کی توقع ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا اثر تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور خطے کی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔
کیا مجتبیٰ خامنہ ای واقعی زندہ ہیں؟
فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر اس سوال کا قطعی جواب دینا مشکل ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں لیکن شدید زخمی ہیں۔ دوسری جانب ان کی طویل عوامی غیر حاضری نے شکوک و شبہات کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای کی موت کی تصدیق نہیں کی گئی، بلکہ اس کے برعکس ان کے زندہ ہونے کا خیال ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم ان کی موجودہ صحت، زخمی ہونے کی شدت اور عملی طور پر حکومتی معاملات میں ان کے کردار کے بارے میں مزید قابلِ اعتماد اور آزادانہ معلومات کا انتظار رہے گا۔
عالمی برادری کی نظریں ایران کی صورتحال پر
مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق ابہام ایسے وقت موجود ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید سیاسی اور عسکری کشیدگی کا شکار ہے۔ ایران، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان تعلقات میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے عالمی سیاست، توانائی کی منڈی اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے آنے والے دنوں میں مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور ممکنہ عوامی موجودگی سے متعلق ہر نئی پیش رفت پر عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز رہیں گی۔
نوٹ: مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے غیر مصدقہ دعوؤں کو حتمی خبر سمجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ دستیاب رپورٹس میں بھی ان کی موجودہ حالت کے حوالے سے مکمل آزادانہ تصدیق موجود نہیں ہے۔
