Wednesday, 26 August 2026

نیپال میں تباہ کن سیلاب، 384 افراد لاپتا، 3 امریکی شہری بھی شامل

 


نیپال میں تباہ کن سیلاب، 384 افراد لاپتا، تین امریکی سیاح بھی شامل

کھٹمنڈو: نیپال کے شمالی علاقے میں آنے والے اچانک اور انتہائی تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 384 افراد لاپتا ہیں، جن میں 291 غیر ملکی شہری اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔ لاپتا افراد میں کم از کم تین امریکی سیاح بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں تاحال کوئی حتمی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق یہ اعداد و شمار ابتدائی نوعیت کے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں موجود افراد کی شناخت اور صورتحال کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

راسووا میں سیلاب نے قیامت برپا کردی

یہ قدرتی آفت نیپال کے شمالی ضلع راسووا میں پیش آئی، جو چین کے زیرِ انتظام تبت کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ حکام کے مطابق مقامی وقت کے مطابق بدھ کی صبح تقریباً 8:30 بجے اچانک سیلابی ریلہ آیا، جس نے دریا کے کنارے آباد علاقوں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔

سیلاب کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کئی مقامات پر پانی اور کیچڑ نے گھروں اور دیگر عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ سڑکوں اور راستوں کے متاثر ہونے سے امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات پیدا ہوئیں۔

تین امریکی سیاح بھی لاپتا افراد میں شامل

نیپال ٹورازم بورڈ کی جانب سے جاری ابتدائی معلومات کے مطابق لاپتا ہونے والے غیر ملکیوں میں تین امریکی شہری بھی شامل ہیں۔ یہ تینوں افراد ایک نیپالی ٹریول کمپنی Fishtail Tours and Travel کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔

ٹریول کمپنی نے امریکی نشریاتی ادارے ABC News کو تصدیق کی کہ اس کے ساتھ سفر کرنے والے تین امریکی شہری لاپتا افراد میں شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق ان افراد کی تلاش اور صورتحال معلوم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم ان کی موجودہ حالت یا مقام کے بارے میں فوری طور پر مزید معلومات دستیاب نہیں ہوسکیں۔

384 افراد کی گمشدگی نے تشویش بڑھا دی

نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق ابتدائی فہرست میں 384 افراد لاپتا قرار دیے گئے ہیں۔ ان میں:

  • 291 غیر ملکی شہری

  • 93 نیپالی شہری

شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد حتمی نہیں ہے کیونکہ متاثرہ علاقوں میں موجود سیاحوں اور مسافروں کی اصل تعداد اور ان کی موجودہ صورتحال کی تصدیق کا عمل ابھی جاری ہے۔ متعدد افراد کی قومیت بھی ابتدائی مرحلے میں واضح نہیں ہوسکی۔

غیر ملکی لاپتا افراد میں امریکی شہریوں کے علاوہ بھارت، برطانیہ، ملائیشیا، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے شہری بھی شامل ہیں۔

قدرتی آفت کی ممکنہ وجہ کیا بنی؟

ابتدائی رپورٹس کے مطابق سیلاب کے پیچھے ایک انتہائی پیچیدہ قدرتی صورتحال کارفرما ہوسکتی ہے۔ راسووا کے علاقے میں زلزلے کے بعد برف اور چٹانوں کے تودے کے باعث دریا کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے اور اس کے نتیجے میں اچانک پانی کا بڑا ریلا آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بھوٹے کوشی دریا میں پانی کے اچانک اضافے نے قریبی علاقوں کو متاثر کیا اور سیلابی ریلہ تیزی سے نشیبی علاقوں کی جانب بڑھا۔

گھر، سڑکیں اور پل پانی میں بہہ گئے

سیلاب کی تباہ کاریوں نے مقامی آبادی کے لیے صورتحال انتہائی مشکل بنا دی ہے۔ متعدد گھروں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا جبکہ سڑکیں اور پل متاثر ہونے کے باعث کئی علاقے ایک دوسرے سے کٹ گئے۔

دریا کے تیز بہاؤ میں مٹی، چٹانیں اور دیگر ملبہ شامل ہونے سے صورتحال مزید خطرناک ہوگئی۔ بعض مقامات پر بنیادی انفراسٹرکچر کو اس قدر نقصان پہنچا کہ امدادی ٹیموں کے لیے متاثرہ علاقوں تک پہنچنا بھی مشکل ہوگیا۔

امدادی کارروائیاں جاری

نیپالی حکام اور سیکیورٹی اداروں نے لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ نیپالی فوج کی جانب سے فضائی راستے سے امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں، جبکہ دشوار گزار پہاڑی علاقے اور خراب موسم ریسکیو آپریشن میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔

حکام نے متاثرہ علاقوں میں موجود افراد کو محتاط رہنے اور دریا کے کناروں سے دور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

امریکہ کی جانب سے بھی صورتحال پر نظر

تین امریکی شہریوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات کے بعد امریکی سفارتی حکام بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی سفارتخانے نے نیپال میں ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نیپالی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور متاثرہ امریکی شہریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

چین کی سرحدی حدود بھی متاثر

اس قدرتی آفت کے اثرات صرف نیپال تک محدود نہیں رہے بلکہ تبت کے سرحدی علاقے میں بھی صورتحال تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ چینی علاقے گیرونگ کے قریب بھی مٹی کے تودے اور سیلابی صورتحال نے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا، جس کے بعد چینی حکام نے بھی تلاش اور امدادی سرگرمیاں شروع کیں۔

صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے

نیپال میں سیلاب سے پیدا ہونے والا بحران ابھی ختم نہیں ہوا اور حکام مسلسل لاپتا افراد کی تعداد اور جانی نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ 384 لاپتا افراد کا اعداد و شمار ابتدائی ہے، اس لیے آنے والے وقت میں یہ تعداد تبدیل ہوسکتی ہے۔

امدادی اداروں کی سب سے بڑی ترجیح لاپتا سیاحوں اور مقامی شہریوں کا سراغ لگانا، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا اور متاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنا ہے۔ پہاڑی جغرافیہ، تباہ شدہ راستوں اور ممکنہ مزید لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے باعث ریسکیو ٹیموں کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔

عالمی سطح پر تشویش

نیپال میں پیش آنے والے اس سانحے نے ایک مرتبہ پھر ہمالیائی خطے میں قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات کو نمایاں کردیا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور دیگر قدرتی واقعات کے باعث مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاح بھی خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

اس وقت دنیا بھر کی نظریں نیپال میں جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن پر ہیں، خصوصاً ان 384 افراد کے بارے میں جن کے اہل خانہ ان کی خیریت کی خبر کے منتظر ہیں۔ تین امریکی سیاحوں سمیت تمام لاپتا افراد کی بحفاظت بازیابی کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

نوٹ: یہ ایک ترقی پذیر خبر ہے۔ نیپالی حکام کی جانب سے تصدیق اور ریسکیو آپریشن میں پیش رفت کے ساتھ لاپتا افراد اور جانی نقصان کے اعداد و شمار تبدیل ہوسکتے ہیں۔


No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Your Ad Spot

مزید خبریں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔