8/26/2026

امریکا میں چینی ہیکنگ گروپ کے خلاف بڑی کارروائی، NASA اور سینیٹ سمیت سینکڑوں ادارے نشانے پر

 


امریکا میں چینی حمایت یافتہ ہیکنگ گروپ کے خلاف بڑی کارروائی، NASA اور سینیٹ سمیت سینکڑوں ادارے نشانے پر

واشنگٹن: امریکا میں سائبر سیکیورٹی سے متعلق ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں امریکی محکمہ انصاف اور وفاقی تحقیقاتی ادارے FBI نے چین سے منسلک ایک ریاستی حمایت یافتہ ہیکنگ گروپ کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ گروپ کئی برس سے امریکا کے سرکاری، دفاعی، صحت اور دیگر اہم اداروں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنا رہا تھا۔ متاثرہ اداروں میں NASA، امریکی محکمہ انصاف، محکمہ توانائی، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH)، محکمہ صحت و انسانی خدمات (HHS)، فیڈرل ریزرو اور امریکی سینیٹ شامل ہیں۔

چینی حمایت یافتہ گروپ کے خلاف کارروائی

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اس سائبر نیٹ ورک کو QTFY کے نام سے شناخت کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروپ چین میں قائم کمپنی Nanjing Xinjiuwei Network Technology Company سے منسلک ہے اور اس کی سرگرمیوں میں چینی وزارتِ ریاستی سلامتی اور پیپلز لبریشن آرمی کے لیے ہیکنگ خدمات فراہم کرنا بھی شامل تھا۔ یہ الزامات امریکی عدالتی دستاویزات میں بیان کیے گئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق QTFY نے ایسے ہیکنگ پلیٹ فارمز تیار کیے جنہیں حساس کمپیوٹر نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کرنے اور سائبر حملوں کی اصل شناخت چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

QScan اور QTRouter کیا تھے؟

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ہیکنگ گروپ کے دو اہم پلیٹ فارم QScan اور QTRouter تھے۔

QScan مبینہ طور پر دنیا بھر میں انٹرنیٹ سے منسلک مختلف آلات، خصوصاً Internet of Things (IoT) ڈیوائسز کو تلاش کرکے انہیں متاثر کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ متاثرہ ڈیوائسز بعد میں QTRouter کے زیرِ کنٹرول نیٹ ورک کا حصہ بن سکتی تھیں۔

دوسری جانب QTRouter ایسے سمجھوتہ شدہ آلات، کمرشل پراکسی سروسز اور ورچوئل پرائیویٹ سرورز کو ایک ایسے نیٹ ورک میں استعمال کرتا تھا جس کے ذریعے سائبر حملہ آور اپنی اصل جگہ چھپا سکتے تھے۔

حملوں کی اصل شناخت چھپانے کا طریقہ

امریکی حکام کے مطابق QTRouter کا ایک اہم مقصد سائبر حملوں کے اصل ماخذ کو چھپانا تھا۔

اس طریقہ کار میں حملہ آور ایسے کمپیوٹرز اور دیگر انٹرنیٹ سے منسلک آلات استعمال کرتے تھے جو پہلے ہی متاثر ہوچکے ہوتے تھے۔ اس طرح سائبر حملے ایسے نیٹ ورکس سے آتے ہوئے دکھائی دے سکتے تھے جو چین سے باہر موجود ہوں۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اس تکنیک نے حملہ آوروں کے لیے اپنی اصل شناخت اور مقام چھپانا آسان بنایا۔

NASA، سینیٹ اور اہم امریکی ادارے متاثر

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ مبینہ سائبر سرگرمیوں میں امریکا کے متعدد انتہائی حساس اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق متاثرہ اداروں میں:

  • NASA

  • امریکی سینیٹ

  • امریکی محکمہ انصاف

  • محکمہ توانائی

  • محکمہ صحت و انسانی خدمات

  • نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ

  • فیڈرل ریزرو

شامل ہیں۔ ABC News کے مطابق ایف بی آئی نے بتایا کہ حملوں کا دائرہ سینکڑوں امریکی اداروں تک پھیلا ہوا تھا۔

امریکی حکومت نے ہیکنگ پلیٹ فارم کیسے بند کیے؟

امریکی محکمہ انصاف اور FBI نے بتایا کہ عدالت سے اجازت حاصل کرنے کے بعد QScan اور QTRouter سے منسلک ڈومینز کو ضبط کیا گیا۔

حکام کے مطابق چونکہ یہ ڈومینز مذکورہ میل ویئر اور ہیکنگ پلیٹ فارمز میں اہم مواصلاتی اور تصدیقی کاموں کے لیے استعمال ہوتے تھے، اس لیے انہیں ضبط کرنے کی کارروائی کے نتیجے میں QScan اور QTRouter کے بنیادی آپریشنز متاثر ہوئے اور پلیٹ فارمز کو غیر فعال کردیا گیا۔

FBI کا سائبر حملوں کے خلاف سخت مؤقف

FBI کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے اس کارروائی کو امریکی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والے چینی ریاستی حمایت یافتہ سائبر حملوں کے خلاف ایک اہم قدم قرار دیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ FBI اور محکمہ انصاف مستقبل میں بھی ایسے سائبر نیٹ ورکس کے خلاف تکنیکی کارروائیاں جاری رکھیں گے تاکہ حساس امریکی انفراسٹرکچر کو محفوظ بنایا جاسکے۔

سائبر جنگ کا بڑھتا ہوا خطرہ

حالیہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اب صرف روایتی میدانوں تک محدود نہیں رہا۔ سائبر اسپیس بھی قومی سلامتی، دفاع، معیشت اور حساس سرکاری معلومات کے تحفظ کے لیے ایک اہم محاذ بن چکا ہے۔

سرکاری اداروں کے علاوہ صحت کے شعبے، مالیاتی نظام، توانائی کے نیٹ ورک اور دیگر اہم انفراسٹرکچر بھی سائبر حملہ آوروں کے لیے اہم اہداف بن سکتے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق QTFY کی سرگرمیوں کے حوالے سے تحقیقات میں کم از کم 2018 تک کے مبینہ سائبر حملوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ FBI اور نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے اس گروپ کی سرگرمیوں سے متعلق سائبر سیکیورٹی معلومات بھی جاری کی ہیں۔

امریکا اور چین کے درمیان سائبر محاذ مزید اہم

امریکا اور چین کے درمیان پہلے ہی ٹیکنالوجی، تجارت اور قومی سلامتی کے شعبوں میں اختلافات موجود ہیں۔ ایسے میں ریاستی حمایت یافتہ سائبر سرگرمیوں کے الزامات دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید پیچیدگی پیدا کرسکتے ہیں۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی اور اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے سائبر خطرات کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

دنیا کے لیے بھی اہم انتباہ

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے لیے یہ واقعہ ایک اہم یاد دہانی ہے کہ عام انٹرنیٹ سے منسلک آلات بھی بڑے سائبر حملوں میں استعمال ہوسکتے ہیں۔

IoT ڈیوائسز، روٹرز، سرورز اور دیگر نیٹ ورک آلات اگر مناسب سیکیورٹی کے بغیر چل رہے ہوں تو انہیں حملہ آور اپنے وسیع تر سائبر نیٹ ورک کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

نتیجہ

امریکا میں چین سے منسلک ریاستی حمایت یافتہ ہیکنگ گروپ کے خلاف تازہ کارروائی نے عالمی سائبر سیکیورٹی کے خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔

NASA، امریکی سینیٹ، محکمہ انصاف، فیڈرل ریزرو اور دیگر حساس اداروں کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے سے واضح ہوتا ہے کہ جدید دور میں سائبر حملے قومی سلامتی کے لیے کس قدر بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

امریکی حکام کی جانب سے QScan اور QTRouter جیسے پلیٹ فارمز کو غیر فعال کرنا سائبر حملہ آوروں کے انفراسٹرکچر کو توڑنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے ریاستی حمایت یافتہ سائبر خطرات کے پیش نظر امریکا سمیت دیگر ممالک کے لیے سائبر دفاع مزید مضبوط بنانا ایک مسلسل چیلنج رہے گا۔

Post Top Ad

Your Ad Spot

مزید خبریں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔