8/27/2026

امریکا میں ICE کی ریکارڈ کارروائی، جولائی میں تقریباً 50 ہزار گرفتاریاں

امریکا میں ICE کی امیگریشن کارروائی، جولائی 2026 میں تقریباً 50 ہزار گرفتاریاں
امریکا میں امیگریشن کریک ڈاؤن تیز، جولائی میں ICE کے تقریباً 50 ہزار گرفتاریاں

واشنگٹن: امریکا میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایک بار پھر نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے جولائی 2026 کے دوران 49,571 افراد کو گرفتار کیا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران کسی ایک ماہ میں گرفتاریوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں ہونے والی ICE گرفتاریاں جون کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد زیادہ رہیں۔ جون میں 43,021 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ فروری میں یہ تعداد 29,241 تھی۔ اس طرح فروری کے مقابلے میں جولائی کی گرفتاریاں تقریباً 70 فیصد بڑھ گئیں۔

جولائی میں ICE کی کارروائیوں میں ریکارڈ اضافہ

امیگریشن انفورسمنٹ کے تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت نے ملک میں امیگریشن قوانین کے نفاذ کو مزید سخت کیا ہے۔ جولائی میں ہونے والی تقریباً 50 ہزار گرفتاریاں اوسطاً روزانہ تقریباً 1,599 گرفتاریوں کے برابر بنتی ہیں۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی انتظامیہ نے امیگریشن انفورسمنٹ کے طریقۂ کار میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔ بڑے اور انتہائی نمایاں چھاپوں کے بجائے بعض کارروائیوں میں ایسے طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں جن پر عوامی سطح پر نسبتاً کم توجہ جاتی ہے، تاہم ان کے نتیجے میں بڑی تعداد میں افراد حراست میں لیے جا رہے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت میں ماس ڈیپورٹیشن اور امیگریشن انفورسمنٹ اہم حکومتی ترجیحات میں شامل رہی ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کے لیے وفاقی سطح پر کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ICE کی سرگرمیوں میں ریاستی اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ 287(g) پروگرام کے ذریعے بعض مقامی پولیس اداروں کو وفاقی امیگریشن قوانین کے نفاذ میں اضافی اختیارات دیے جا رہے ہیں، جس سے ICE کے لیے گرفتاریوں کا نیٹ ورک مزید وسیع ہوا ہے۔

ٹیکساس اور فلوریڈا میں بڑی تعداد میں گرفتاریاں

تازہ اعداد و شمار کے مطابق ٹیکساس اور فلوریڈا ان ریاستوں میں شامل ہیں جہاں جولائی کے دوران ICE کی کارروائیوں میں نمایاں تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں۔ دونوں ریاستوں کو ملا کر جولائی کی تقریباً 20 ہزار گرفتاریوں کا حصہ بنتا ہے۔

یہ صورتحال اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ امریکا میں امیگریشن انفورسمنٹ صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں وفاقی اور مقامی اداروں کے تعاون سے کارروائیاں جاری ہیں۔

گرفتاریوں میں اضافہ کیوں اہم ہے؟

ICE کی گرفتاریوں میں مسلسل اضافہ امریکا کی امیگریشن پالیسی میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ موجودہ حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایسے افراد کو بھی امیگریشن انفورسمنٹ کے دائرے میں لایا جا رہا ہے جن کے خلاف پہلے سے کسی سنگین مجرمانہ مقدمے یا سزا کا ریکارڈ موجود نہیں۔

تازہ رپورٹنگ کے مطابق جولائی میں گرفتار کیے گئے افراد میں نصف سے زیادہ ایسے افراد تھے جن کے خلاف سابقہ مجرمانہ سزا یا چارجز موجود نہیں تھے۔ اس پہلو نے امیگریشن پالیسی پر انسانی حقوق، قانونی طریقۂ کار اور حکومتی اختیارات کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

ڈیپورٹیشن پالیسی بھی زیرِ بحث

ICE کی گرفتاریوں میں اضافے کا تعلق امریکا کی وسیع تر ڈیپورٹیشن پالیسی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ جولائی کے دوران تقریباً 49,571 گرفتاریاں اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیوں کو کم کرنے کے بجائے انہیں مزید مؤثر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق جولائی میں گرفتار افراد کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ملک بدری کی کارروائیاں بھی جاری رہیں، جس سے امیگریشن انفورسمنٹ کا مجموعی حجم مزید بڑھا ہے۔

امیگرنٹ کمیونٹیز میں تشویش

ICE کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے امریکا میں موجود امیگرنٹ کمیونٹیز میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔ قانونی ماہرین اور امیگریشن حقوق کے حامیوں کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ گرفتاری یا ملک بدری کے ہر معاملے میں قانونی حقوق اور مناسب عدالتی عمل کو یقینی بنایا جائے۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور غیر قانونی طور پر امریکا میں موجود افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔

فروری سے جولائی تک بڑا فرق

اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ امیگریشن گرفتاریوں میں تیزی کو واضح کرتا ہے:

  • فروری 2026: 29,241 گرفتاریاں

  • جون 2026: 43,021 گرفتاریاں

  • جولائی 2026: 49,571 گرفتاریاں

یعنی صرف پانچ ماہ کے دوران ماہانہ گرفتاریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جولائی کی تعداد فروری کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ رہی۔

امریکا میں امیگریشن پالیسی کا مستقبل

ICE کی ریکارڈ گرفتاریوں نے امریکا میں امیگریشن پالیسی کے مستقبل کے حوالے سے بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ ایک طرف حکومت بڑے پیمانے پر غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائی کو اپنی پالیسی کا مرکزی حصہ قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کے ادارے اور امیگریشن وکلا گرفتاریوں، حراست اور ملک بدری کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

جولائی 2026 کے اعداد و شمار سے فی الحال یہ واضح ہے کہ امریکی امیگریشن انفورسمنٹ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ICE کی کارروائیاں ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کے اہم ترین حصوں میں برقرار ہیں۔ 49,571 گرفتاریوں کا ماہانہ ریکارڈ اس پالیسی کے موجودہ حجم کو نمایاں کرتا ہے۔

نوٹ: اوپر دی گئی خبر فراہم کردہ تصویر کے دعوے کو تازہ دستیاب رپورٹس اور اعداد و شمار سے کراس چیک کرکے اپنے الفاظ میں لکھی گئی ہے؛ اسے کسی خبر کا لفظ بہ لفظ ترجمہ یا نقل نہیں کیا گیا۔

Post Top Ad

Your Ad Spot

مزید خبریں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔