آبنائے ہرمز سے تمام بارودی
سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ، ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں سے تمام بارودی سرنگیں یا تو ہٹا
دی گئی ہیں یا انہیں ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر
کسی جہاز یا کشتی نے دوبارہ بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی تو اسے فوری طور پر تباہ
کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ کا سخت بیان
ٹرمپ نے 25 اگست 2026 کو
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ نے انہیں آبنائے ہرمز میں موجود بارودی
سرنگوں کی صفائی کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ آبنائے ہرمز کی نگرانی
کر رہا ہے اور کسی بھی نئی بارودی سرنگ کی تنصیب کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ
ایران کو واضح طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اگر کوئی جہاز یا کشتی نئی بارودی سرنگیں
بچھانے کی کوشش کرے گی تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم
ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم
ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے
ملاتی ہے اور عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔
حالیہ کشیدگی کے باعث اس
راستے سے گزرنے والے تیل کی مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق 24 اگست
کو آبنائے ہرمز سے تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ تیل گزر رہا تھا، جبکہ جنگ سے پہلے یہ
مقدار 2 کروڑ بیرل یومیہ سے زیادہ تھی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان
کشیدگی برقرار
بارودی سرنگوں کی صفائی کے
دعوے کے باوجود آبنائے ہرمز کی صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ خطے میں سمندری
نقل و حرکت اور جہازوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات اب بھی موجود ہیں۔
دوسری جانب ایران اور عمان
نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو منظم کرنے، عارضی راستہ بنانے اور بارودی سرنگوں
کی صفائی سے متعلق اقدامات پر بات چیت شروع کی ہے۔
عالمی تیل مارکیٹ پر ممکنہ
اثرات
آبنائے ہرمز سے بڑی مقدار
میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس راستے میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کا عالمی
توانائی مارکیٹ پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اگر آبنائے ہرمز میں تجارتی
جہازوں کی آمدورفت محفوظ اور معمول کے مطابق بحال ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی
کے حوالے سے دباؤ کم ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر دوبارہ بارودی سرنگیں بچھانے
یا جہازوں کو نشانہ بنانے جیسے واقعات پیش آئے تو صورتحال ایک مرتبہ پھر سنگین ہو سکتی
ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
ٹرمپ کے تازہ بیان سے واضح
ہوتا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کو محفوظ بنانے کے لیے سخت مؤقف
اختیار کیے ہوئے ہے۔ تاہم خطے میں موجود کشیدگی کے باعث صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں
ہیں۔
آبنائے ہرمز کی مکمل اور
مستقل بحالی نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور ان ممالک کے لیے
بھی اہم ہے جو تیل اور گیس کی درآمد کے لیے اس سمندری راستے پر انحصار کرتے ہیں۔
خلاصہ: امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں سے تمام بارودی سرنگیں ہٹا
دی گئی ہیں، جبکہ ایران کو نئی سرنگیں بچھانے کی صورت میں سخت کارروائی کی وارننگ دی
گئی ہے۔ خطے میں کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز کو محفوظ اور معمول کی بحری آمدورفت
کے لیے بحال کرنا عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

No comments:
Post a Comment