Wednesday, 26 August 2026

پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، 14 نومولود بچے جاں بحق

 


پمز ہسپتال کی نرسری میں ہولناک آتشزدگی، 14 نومولود بچے جاں بحق

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے مادر و طفل صحت (ایم سی ایچ) وارڈ میں بدھ کی صبح پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ ہسپتال کی نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق آگ کی اطلاع صبح 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے بعد فائر اور ریسکیو ٹیمیں چند ہی منٹوں میں موقع پر پہنچ گئیں۔ فائر بریگیڈ کی چھ گاڑیوں اور چار ایمبولینسز نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

آگ کیسے لگی؟

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ ایئر کنڈیشنر میں دھماکا بتائی گئی ہے۔ بعض ابتدائی رپورٹس میں شارٹ سرکٹ کا بھی ذکر کیا گیا، اس لیے واقعے کی حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

رپورٹس کے مطابق نرسری میں آکسیجن کی موجودگی کے باعث آگ تیزی سے پھیل گئی، جس سے صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی۔

14 نومولود جان کی بازی ہار گئے

اس المناک حادثے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق نرسری میں موجود بچوں میں سے کم از کم ایک بچے کو ایک ڈاکٹر نے بچا لیا۔

یہ خبر سامنے آنے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں شدید غم و صدمہ پایا جا رہا ہے۔ نومولود بچوں کی ہلاکت نے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے نظام پر بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

وزیراعظم کا فوری ایکشن

واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔ وفاقی صحت سیکریٹری کو عہدے سے ہٹائے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔

حکام کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آگ کس طرح پھیلی، حفاظتی اقدامات کس حد تک موجود تھے اور ہنگامی صورت حال میں نومولود بچوں کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کیوں نہ کیا جا سکا۔

ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات پر سوالات

پمز میں پیش آنے والا یہ واقعہ اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہسپتالوں کے انتہائی حساس شعبوں، خصوصاً نرسریوں اور نومولود بچوں کے وارڈز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات انتہائی مؤثر ہونے چاہییں۔

ایسے وارڈز میں موجود بچے خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتے، اس لیے ہنگامی اخراج کے راستے، فائر الارم، آکسیجن سیفٹی، بجلی کے نظام اور تربیت یافتہ عملے کی موجودگی انتہائی ضروری ہے۔

تحقیقات سے اصل حقیقت سامنے آئے گی

حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ آگ لگنے کی حتمی وجہ، حفاظتی انتظامات میں ممکنہ خامیوں اور ذمہ داری کے تعین کے لیے تحقیقات اہم ہوں گی۔

اس سانحے نے پاکستان میں ہسپتالوں کے حفاظتی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ایک بار پھر نمایاں کر دی ہے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو ایسی ناقابلِ تلافی آزمائش سے نہ گزرنا پڑے۔

ایک قومی سانحہ

پمز ہسپتال میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت ایک انتہائی افسوسناک سانحہ ہے۔ ان معصوم بچوں کے اہلِ خانہ کے دکھ کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ہسپتالوں میں ایسے حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں جو انسانی جانوں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں محفوظ رکھ سکیں۔

اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے والدین اور اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے۔ آمین۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Your Ad Spot

مزید خبریں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔