Wednesday, 26 August 2026

جنوبی کیرولائنا: لنڈسے گراہم کی بہن ڈارلین گراہم ریپبلکن امیدوار منتخب

 


جنوبی کیرولائنا: لنڈسے گراہم کی بہن ڈارلین گراہم ریپبلکن امیدوار منتخب

کولمبیا، جنوبی کیرولائنا: امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا کے ریپبلکن ووٹرز نے ڈارلین گراہم کو سینیٹ کی نشست کے لیے پارٹی کا امیدوار منتخب کرلیا ہے۔ ڈارلین گراہم آنجہانی سینیٹر لنڈسے گراہم کی بہن ہیں اور اب وہ نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے اس نشست کا دفاع کریں گی۔

ڈارلین گراہم کی اہم کامیابی

ڈارلین گراہم نے ریپبلکن پارٹی کے خصوصی رن آف مقابلے میں امریکی ایوان نمائندگان کے رکن رالف نارمن کو شکست دی۔ دستیاب نتائج کے مطابق ڈارلین گراہم نے تقریباً 52 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ رالف نارمن تقریباً 48 فیصد ووٹ لے سکے۔

یہ مقابلہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ لنڈسے گراہم کی اچانک وفات کے بعد جنوبی کیرولائنا کی سینیٹ نشست خالی ہوگئی تھی۔ ریاستی گورنر ہنری میک ماسٹر نے جولائی میں ڈارلین گراہم کو عبوری طور پر سینیٹ کی نشست سنبھالنے کے لیے مقرر کیا تھا۔

ٹرمپ کی حمایت نے اہم کردار ادا کیا

ڈارلین گراہم کی انتخابی مہم کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ ٹرمپ نے نہ صرف ان کی حمایت کا اعلان کیا بلکہ جنوبی کیرولائنا میں ان کے لیے انتخابی مہم بھی چلائی۔

ٹرمپ سے منسلک سیاسی گروپ MAGA Inc. نے بھی ڈارلین گراہم کی حمایت میں انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں 8 لاکھ ڈالر سے زائد خرچ کیے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ڈارلین گراہم کی کامیابی کو ٹرمپ کے لیے بھی ایک اہم سیاسی کامیابی سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ حالیہ پرائمری انتخابات میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ بعض امیدواروں کو مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

سینیٹ میں ڈارلین گراہم کا نیا سفر

ڈارلین گراہم اس سے قبل جنوبی کیرولائنا کمیشن فار دی بلائنڈ کی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ گورنر کی جانب سے سینیٹ میں تقرری کے بعد وہ ریاست کی تاریخ میں سینیٹ کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون بن گئیں۔

تاہم، ان کے سیاسی تجربے کی کمی انتخابی مہم کے دوران ایک اہم موضوع رہی۔ ڈارلین گراہم نے اپنی مہم میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے بجائے عام شہریوں کے لیے مہنگائی، صحت کی سہولیات اور روزمرہ اخراجات جیسے مسائل کو زیادہ اہم قرار دیا۔

نومبر میں ڈیموکریٹ امیدوار سے مقابلہ

ریپبلکن امیدوار بننے کے بعد اب ڈارلین گراہم کا مقابلہ نومبر کے عام انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر اینی اینڈروز سے ہوگا۔ عام انتخابات میں کامیابی کی صورت میں ڈارلین گراہم جنوبی کیرولائنا کی جانب سے سینیٹ کی مکمل چھ سالہ مدت کے لیے منتخب ہوسکتی ہیں۔

جنوبی کیرولائنا روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی ہے، اس لیے ڈارلین گراہم کو نومبر کے انتخابات میں ایک مضبوط پوزیشن حاصل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم حتمی فیصلہ ووٹرز ہی کریں گے۔

بھائی کی نشست، بہن کا سیاسی سفر

ڈارلین گراہم کی کامیابی کو اس لیے بھی خاص اہمیت حاصل ہے کہ وہ اسی سینیٹ نشست پر اپنے مرحوم بھائی لنڈسے گراہم کی جگہ لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے بھائی کی عوامی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ وہ ان کی میراث کا احترام کرتے ہوئے اپنی الگ سیاسی شناخت قائم کریں گی۔

اب تمام نظریں نومبر کے عام انتخابات پر مرکوز ہیں، جہاں ڈارلین گراہم کو پہلی بار ریاست بھر کے ووٹرز کے سامنے مکمل سینیٹ مدت کے لیے اپنا مینڈیٹ حاصل کرنا ہوگا۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Your Ad Spot

مزید خبریں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔